وہ عام عادات جو رمضان میں پیٹ پھولنے یا گیس کا شکار بنا دیتی ہیں

gas

اسلام آباد (ویب ڈیسک) رمضان المبارک میں سارا دن کچھ نہ کھانے اور افطاری کے وقت زیادہ کھانا صحت کے لیے اچھا نہیں  کیونکہ  شدید بھوک کے باعث تیزی سےغذا اچھی طرح چبائے بغیر نگل لیتے ہیں جس سے پیٹ پھولنے، تیزابیت، اضافی گیس اور سینے میں جلن جیسے عام مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔

درست غذاء
اگر آپ زیادہ تیل والی یا مرغن اشیا سے روزہ کھولتے ہیں تو اس عادت سے سینے میں جلن اور پیٹ پھولنے جیسے مسائل کا خطرہ بڑھتا ہے۔

ماہرین کے مطابق افطار میں سب سے پہلے کھجوروں یا پانی کا استعمال کرنا چاہیے،کھجوروں کے استعمال سے بلڈ شوگر کی سطح کو مستحکم رکھنے میں مدد ملتی ہے جبکہ جسم کو نظام ہاضمہ کو متاثر کیے بغیر جسمانی توانائی کو فوری طور پر بڑھا سکتے ہیں۔

اسی طرح پورا دن پانی سے دور رہنے کے بعد پانی پینے سے جسم میں پانی کی سطح معمول پر آتی ہے اور ہمارے معدے کو غذا کو ہضم کرنے کے لیے تیار رہنے میں مدد ملتی ہے۔

تیزی سے کھانا
اگر آپ افطار میں بہت زیادہ تیزی سے کھاتے ہیں تو ضرورت سے زیادہ مقدار میں کھانا کھا لیتے ہیں جس سے پیٹ پھولنے اور اضافی گیس جیسے مسائل کا خطرہ بڑھتا ہے۔ اچھی طرح چبا کر کھانا ہتر ہوتا ہے کیونکہ ہمارے دماغ کو پیٹ بھرنے کے لیے احساس کو جاننے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔

تلی ہوئی اشیاکا استعمال
افطار کے وقت تلی ہوئی اشیا جیسے پکوڑے سموسے وغیرہ کا نظارہ بہت اچھا لگتا ہے مگر ان کو بہت زیادہ مقدار میں کھانے سے تیزابیت، گیس اور پیٹ پھولنے جیسے مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔ان غذاؤں کو کھانے سے نظام ہاضمہ پر بوجھ بڑھتا ہے اور آپ تھکاوٹ محسوس کرنے لگتے ہیں۔

 افطار کے وقت کم مقدار میں کھانے کے استعمال بہتر ہوتا ہے کیونکہ طویل فاقے کے بعد ہم زیادہ کھانے کے خواہشمند ہوتے ہیں مگر اعتدال میں رہنے سے نظام ہاضمہ کے مسائل کا خطرہ گھٹ جاتا ہے۔

میٹھی اشیا کا استعمال 
افطار کے بعد بہت زیادہ چینی کا استعمال بلڈ شوگر کی سطح میں اضافہ کرتا ہے اور اس سے جسمانی توانائی میں اچانک اضافے کے بعد کمی آتی ہے۔

اسی طرح بہت زیادہ تھکاوٹ کا سامنا بھی ہوتا ہے تو افطار کے وقت میٹھا کھانے کی بجائے صحت کے لیے مفید غذاؤں جیسے پھلوں، کھجوروں یا دہی کا انتخاب کریں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے