میو ہسپتال میں  غیر معیاری  انجکشن کا غریبوں پر استعمال, ایک مریضہ جاں بحق،16کی حالت تشویشناک

ڈوپ ٹیسٹ مثبت

لاہور (ویب ڈیسک) صوبائی دارلحکومت کے بڑے ہسپتالوں میں سے ایک  میو ہسپتال میں  غیر معیاری  انجکشن کا غریبوں پر استعمال کا انکشاف ہوا ہے جس کے نتیجے میں ایک مریضہ جاں بحق ہوگئی جبکہ 16کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے ۔

مقامی اخبار "روزنامہ پاکستان” کے مطابق انجکشن لگنے سے ایک 30 سالہ نورین نامی خاتون دم توڑ گئی جبکہ 16 کے قریب مریضوں کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جا رہی ہے جن میں سے کئی مریض کی سانسیں چلانے کیلئے انہیں وینٹیلیٹر پر رکھا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مریضوں کیلئے موت ثابت ہونیوالے انجکشن کا نام ویکسا بتایا گیا ہے مزے کی بات یہ ہے کہ یہ انجکشن محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ نے ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز پنجاب کے ذریعے سرکاری طور پر خرید کر ان کی پورے پنجاب میں سپلائی کی اور یہ پاکستانی نیوٹروفارما نامی فارماسوٹیکل کے سپلائی کردہ ہیں ، انجکشن کا ری ایکشن سامنے آنے کے بعد ہسپتال کی انتظامیہ نے اس غیر معیاری ثابت ہونیوالے انجکشن کی پورے ہسپتال میں استعمال روک دیا ہے اور مریضوں کو لگانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

بتایاگیا ہے کہ غیر معیاری انجکشن چیسٹ وارڈ میو ہسپتال میں سامنے آئے بتایا گیا ہے گزشتہ روز امراض سینہ میں زیر علاج جس مریض کو بھی  انجکشن لگا وہ تڑپنا شروع ہو گیا، انجکشن کا ری ایکشن سامنے آتے ہی پورے ہسپتال میں ہلچل مچ گئی ۔

ذرائع نے بتایا ہے ایس میو ہسپتال ڈاکٹر احتشام نے واقعہ کی وجوہات جاننے کے لیے اعلی  سطح کمیٹی قائم کردی۔ پروفسیر آف میڈیسن اسرار طور کمیٹی کے سربراہ ہونگے  جبکہ تحقیقاتی کمیٹی میں چیف فارماسسٹ ڈپٹی نرسنگ چیف اے ایم ایس اراکین کو بھی شامل کیا گیا ہے ۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے